مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس کے سابق ترجمان شان اسپائسر کے ساتھ گفتگو میں ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر ٹرمپ سے ممکنہ اختلافِ رائے کا دعویٰ کیا ہے۔
وینس سے سیاسی تجزیہ کار اور ٹرمپ کے سابق اتحادی ٹکر کارلسن کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا۔ کارلسن نے ایران کے خلاف جنگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے صیہونی حکومت کے مفادات کے مطابق اور امریکہ سے باہر مہنگی فوجی مداخلتوں سے گریز کے ٹرمپ کے وعدے کے خلاف قرار دیا ہے۔
اس سوال کے جواب میں وینس نے دعویٰ کیا کہ اگر آپ کسی مخصوص معاملے پر ان سے اختلافِ رائے رکھتے ہیں تو آپ کو یہ اختلاف رکھنے کا حق حاصل ہے۔ میرے خیال میں میرا بھی ایسا ہی اختلافِ رائے رہا ہے۔
امریکی نائب صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں کارلسن کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ پر ’’بہت، بہت زیادہ غصے میں‘‘ تھے۔
وینس نے مزید کہا کہ میں نے اس معاملے پر ان کے ساتھ نجی گفتگو میں بھی بات کی ہے اور عوامی سطح پر بھی۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں اور ان کے نقطۂ نظر کو سمجھتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر کارلسن کے ٹرمپ سے اختلاف کے حوالے سے انہوں نے کارلسن کو مشورہ دیا تھا کہ کسی ایک معاملے پر اختلافِ رائے کی وجہ سے ٹرمپ کے دیگر اقدامات کو نظرانداز نہ کریں۔
اس انٹرویو کے ایک اور حصے میں وینس نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں اب تک امریکی فوج کے 20 اہلکار اور امریکہ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ ایسی صورتِ حال میں ہے کہ اس سے قبل امریکی وزارتِ جنگ (پینٹاگون) نے ایران کی سرزمین پر جارحیت کرنے والے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار بتدریج جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد سابقہ اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ پینٹاگون نے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید دو افراد کا اضافہ کرتے ہوئے اپنے سرکاری اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا تھا۔
پینٹاگون کے نئے اعداد و شمار کے مطابق، ایران کی سرزمین پر امریکی جارحیت کے نتیجے میں 21 امریکی فوجی ہلاک اور 865 زخمی ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ